کراچی(رپورٹر) صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے شہر میں کمیونٹی پولیسنگ کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت کے طور پر حال ہی میں کمیونٹی پولیسنگ کراچی (CPK) کے تحت پہلے جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول روم کا افتتاح کیا ہے. یہ مرکز ایس ایس پی اے وی ایل سی کے دفتر میں قائم کیا گیا ہے اور اسے شہری سیکیورٹی میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ سندھ حکومت کمیونٹی پولیسنگ کے فروغ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، کیونکہ عوام اور پولیس کے درمیان مضبوط رابطہ جرائم کی روک تھام میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ CPK کو سیف سٹی پروجیکٹ سے منسلک کرنے کے لیے متعلقہ حکام کے درمیان جلد ملاقات کرائی جائے گی، جبکہ کیمروں کی مرمت کے اخراجات بھی حکومت برداشت کرے گی۔
اس موقع پر آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے اپنے خطاب میں کہا کہ کمیونٹی پولیسنگ ایک مؤثر ماڈل ہے جس کے ذریعے جرائم میں نمایاں کمی ممکن ہے۔ ان کے مطابق جدید کیمروں کے استعمال سے کرائم ڈیٹیکشن میں 60 فیصد تک بہتری آئی ہے، جبکہ شہر کے 40 تھانوں میں مزید کیمرے نصب کرنے کا منصوبہ بھی زیر عمل ہے۔
تقریب میں دی گئی بریفنگ کے مطابق یہ نظام پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت قائم کیا گیا ہے، جس میں جدید ANPR (آٹومیٹک نمبر پلیٹ ریکگنیشن) کیمروں کے ذریعے مشتبہ گاڑیوں کی شناخت محض 30 سیکنڈ میں ممکن ہوگی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سے جرائم کی روک تھام، نگرانی اور فوری کارروائی کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
سی پی کے کے سربراہ مراد سونی نے بتایا کہ ادارہ چار سال قبل قائم کیا گیا تھا اور اب شہر بھر میں اس کے 18 مراکز فعال ہیں، جو پولیس اور عوام کے درمیان رابطے کو مضبوط بنا رہے ہیں۔
CPK کے بعد CPLC کا مستقبل؟
کراچی میں شہری و پولیس تعاون کا ایک اہم ادارہ Citizens-Police Liaison Committee (CPLC) پہلے سے موجود ہے، جس نے خاص طور پر اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری اور شہری شکایات کے اندراج میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ CPK کے قیام کے بعد یہ سوال اہم ہو گیا ہے کہ کیا CPLC کی ضرورت باقی رہے گی؟
ماہرین کے مطابق CPK اور CPLC کا کردار مختلف ہے. CPK جدید ٹیکنالوجی، نگرانی اور ریئل ٹائم کرائم پریوینشن پر کام کرتا ہے، جبکہ CPLC شکایات، ڈیٹا اور حساس کیسز (خصوصاً اغوا) کی فالو اپ اور کوآرڈینیشن میں مہارت رکھتا ہے۔ دونوں ادارے ایک ساتھ چل سکتے ہیں ،اگر CPK کو نگرانی اور فوری ردعمل کا نظام سمجھا جائے، تو CPLC تفتیشی معاونت اور شہری رابطے کا مضبوط پلیٹ فارم ہوگا۔
تاہم اگر واضح تقسیم نہ کی گئی تو دونوں اداروں کے درمیان اختیارات اور ذمہ داریوں میں ابہام پیدا ہو سکتا ہے، جس سے کارکردگی متاثرہونے کا خدشہ ہے۔ CPK کا قیام کراچی میں پولیسنگ کے نظام کو جدید بنانے کی ایک بڑی کوشش ہے، جو ٹیکنالوجی اور کمیونٹی شراکت داری کو یکجا کرتا ہے۔ اگر حکومت واضح پالیسی کے تحت CPK کو اسمارٹ سرویلنس اور CPLC کو شہری رابطہ و کیس مینجمنٹ تک محدود رکھے، تو دونوں مل کر شہر میں امن و امان کی صورتحال کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکتے ہیں۔
CPK کے بعد CPLC کا مستقبل کیا ہوگا؟



