اسلام آباد (نیوز ڈیسک) آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے سندھ کے ضلع ٹنڈو الہ یار میں خام تیل کی چوری کے ایک بڑے نیٹ ورک اور ایک غیر قانونی ریفائنری کا سراغ لگایاہے. کمپنی کے مطابق چوری کا یہ عمل کنڑ پساکھی ڈیپ (کے پی ڈی)-ٹی اے وائی آئل فیلڈ کی پائپ لائن میں غیر قانونی کنکشن کے ذریعے ٹنڈو جام کے قریب ماچھی ہوٹل پولیس چیک پوسٹ کے نزدیک کیا جا رہا تھا۔ چوری شدہ خام تیل کو ایک غیر قانونی ریفائنری میں منتقل کر کے پراسیس کیا جاتا تھا اور پھر مقامی مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا تھا۔
کمپنی کے مطابق اس نے جنوری 2026 میں ایک مربوط تحقیقات کا آغاز کیا، جس میں انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے نیٹ ورک کا سراغ لگایا . جس کے بعد نیو حیدرآباد سٹی کے سری علاقے میں چھاپہ مار کارروائی کے دوران ریفائننگ کا سامان اور بڑی مقدار میں چوری شدہ خام تیل برآمد کیا گیا. ٹنڈو جام پولیس نے مبینہ گینگ لیڈر وزیر داؤدانی کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے، جبکہ اس کے ساتھیوں غنی داؤدانی، بادشاہ نظامانی، مبن نظامانی اور چھ دیگر افراد کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق پولیس نے تین سوزوکی گاڑیاں اور ایک مزدا ٹرک بھی قبضے میں لے لیا ہے، جو چوری شدہ خام تیل لے جا رہے تھے۔
ٹنڈو الہ یار میں خام تیل کی چوری کا سراغ لگالیا گیا



