خیرپور واقعہ: گھروں کی مسماری پر قانونی سوالات اٹھ گئے

خیرپور: سندھ کے علاقے ٹنڈو مستی میں غیرت کے نام پر ایک خاتون کے بہیمانہ قتل کے بعد پولیس نے بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے 20 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ آپریشن کے دوران مبینہ ملزمان کے گھروں کو بھی مسمار کر دیا گیا، جس پر قانونی حلقوں میں بحث شروع ہو گئی ہے۔
ایس ایس پی خیرپور کے مطابق پولیس نے تیز رفتار کارروائی کرتے ہوئے 20 افراد کو حراست میں لیا، جن میں سے 7 کی شناخت ہو چکی ہے جبکہ دیگر سے تفتیش جاری ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ قتل مبینہ طور پر غیر قانونی جرگے کے فیصلے کے تحت کیا گیا، اور واقعے میں ملوث تمام عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ تصاویر اور ویڈیو کلپس کے مطابق پولیس آپریشن کے دوران ملزمان کے گھروں کو بھی مسمار کیا جا رہا ہے، جبکہ ایس ایس پی نے کہا ہے کہ ‘کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی”.
لیکن کیا پولیس قانونی طور پر ملزمان کے گھروں کو مسمار کر سکتی ہے؟
اس کارروائی کے بعد سب سے اہم سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا پولیس کو مبینہ ملزمان کے گھروں کو گرانے کا قانونی اختیار حاصل ہے؟
ماہرین کے مطابق پاکستان کے آئین کے تحت ہر شہری کو جائیداد کے تحفظ کا حق حاصل ہے۔کسی بھی شخص کو اس کی ملکیت سے محروم کرنے کے لیے قانونی طریقہ کار (due process) ضروری ہے۔ یعنی محض الزام کی بنیاد پر گھر گرانا آئینی اصولوں سے متصادم ہو سکتا ہے۔
قانون کے تحت پولیس کا بنیادی اختیار گرفتاری، تفتیش اور امن و امان برقرار رکھنا ہوتا ہے۔جائیداد مسمار کرنا عام طور پر پولیس کا اختیار نہیں، یہ کام ضلعی انتظامیہ یا متعلقہ بلدیاتی ادارے کرتے ہیں، وہ بھی صرف اس صورت میں جب تعمیرات غیر قانونی ثابت ہوں.
جبکہ کسی بھی ملزم کو سزا صرف عدالت دے سکتی ہے. فوجداری نظام کے تحت جرم ثابت ہونے تک ہر شخص ملزم ہوتا ہے، مجرم نہیں. قانونی ماہرین کے مطابق گھر مسمار کرنا ایک طرح کی “اجتماعی سزا” تصور ہو سکتی ہے، جو قانون کے بنیادی اصولوں سے متصاد ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں