سندھ کےنجی میڈیکل کالجوں میں 284 نشستیں خالی کیوں رہ گئیں؟

کراچی(رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد سلیم جیسر اور جسٹس نثار احمد بنبھرو پر مشتمل ڈویزن بینچ نے سندھ بھر کے میڈیکل کالجوں میں داخلوں کے معیار میں نرمی سے متعلق درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ ایم ڈی کیٹ (MDCAT) میں کم نمبر حاصل کرنے والے طلبہ کو ایڈجسٹ کرنے اور نجی اداروں کی خالی نشستیں پُر کرنے کے لیے معیار کم نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے اس کے برعکس حکام کو ہدایت کی کہ مستحق اور میرٹ پر پورا اترنے والے طلبہ کے لیےنجی کالجوں میں‌مختص وظائف اور مفت تعلیم کے قانون پر عملدرآمد کرایا جائے .
اپنے تفصیلی فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ اگرچہ Pakistan Medical and Dental Council نے کم از کم میرٹ میں جزوی نرمی کی، تاہم اس اقدام کو قانونی بنیاد حاصل نہیں تھی اور اسے کسی صورت سراہا نہیں جا سکتا۔ عدالت نے اسے طبی تعلیم کے مستقبل کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسے ملک میں جہاں پہلے ہی مستند اور معیاری ڈاکٹروں کی کمی ہے، غیر میرٹ طلبہ کو داخلہ دینا صحت کے نظام کو مزید کمزور کر سکتا ہے۔
عدالت نے زور دیا کہ سندھ کے نجی میڈیکل کالج داخلہ معیار کم کرنے کے بجائے فیسوں میں رعایت اور مالی سہولتیں فراہم کریں۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ سندھ پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (ریگولیشن اینڈ کنٹرول) آرڈیننس 2001 کی شق 13 کے تحت ادارے کل داخل شدہ طلبہ کے 10 فیصد تک وظائف اور مکمل فری شپ دینے کے پابند ہیں، جس سے مستحق اور قابل طلبہ کے لیے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
عدالت نے کہا کہ اگر شق 13 پر مکمل عمل کیا جائے تو خالی نشستوں کا مسئلہ خود بخود حل ہو سکتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ بعض نجی میڈیکل اداروں میں اسکالرشپ اسکیم کے تحت کوئی نشست مختص نہیں کی گئی۔
عدالت نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت اور پی ایم ڈی سی دونوں خالی نشستوں کے مسئلے کے حل کے لیے کوئی جامع اور یکساں پالیسی بنانے میں ناکام رہے، حالانکہ داخلوں کا عمل فروری 2026 میں مکمل ہو چکا تھا۔ عدالت کے مطابق پالیسی کی عدم موجودگی نے خاص طور پر غریب اور مستحق طلبہ کے داخلے میں رکاوٹ ڈالی۔
عدالت نے نجی کالجوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں معیار کم کرنے کے بجائے فیسوں میں کمی اور مالی معاونت فراہم کر کے اہل طلبہ کو داخلہ دینا چاہیے تھا۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ پی ایم ڈی سی نے نجی اداروں کے دباؤ میں آ کر 8 اپریل 2026 کو جاری نوٹیفکیشن کے ذریعے میرٹ کو 55 اور 50 فیصد سے کم کر کے 53 اور 47 فیصد کر دیا۔
ریکارڈ کے مطابق 14 فروری 2026 تک نجی میڈیکل کالجوں میں داخلے مکمل ہو گئے تھے، تاہم 284 نشستیں خالی رہ گئیں۔ دس ہزار سے زائد اہل طلبہ دستیاب ہونے کے باوجود بھاری فیسوں کے باعث وہ داخلہ حاصل نہ کر سکے۔ مجموعی طور پر تقریباً 14,300 امیدوار ایم ڈی کیٹ میں کامیاب ہوئے تھے جبکہ سندھ میں ایم بی بی ایس کی تقریباً 4,400 نشستیں دستیاب تھیں۔ سرکاری کالجوں میں تمام نشستیں میرٹ پر پُر ہو گئیں، جبکہ نجی کالجوں میں مہنگی فیسوں کے باعث متعدد نشستیں خالی رہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سندھ کے نجی کالجوں‌میں خالی رہ جانے والی نشستوں‌کی تعداد کچھ اس طرح ہے:
التبری میڈیکل کالج کراچی میں 44، اسریٰ‌یونیورسٹی حیدرآباد میں 33، سلیمان روشن میڈیکل کالج میں 19، سر سید کالج میڈیکل سائسنز میں 07، بقائی یونیورسٹی میں میڈیکل کی21 نشستیں‌خالی رہ گئیں، پی ایم ڈی سی کی مدد سے ان نشستوں‌کو بھرنے کے لیے داخلوں کے مقررہ معیار میں کمی کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں