کسٹمز اور سندھ حکومت کے درمیان گاڑی ضبطی پر نیا تنازع

کراچی(رپورٹر) پاکستان کسٹمز اور سندھ حکومت کے درمیان ایک نیا تنازع سامنے آیا ہے جس میں کسٹمز حکام نے ایک گاڑی ضبط کر لی اور مبینہ طور پر مؤقف اختیار کیا کہ یہ نان کسٹم پیڈ ہے۔ تاہم سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ گاڑی محکمہ اطلاعات کی ملکیت ہے اور اسے انڈس موٹر کمپنی کے مجاز آؤٹ لیٹ سے سرکاری طور پر خریدا گیا تھا۔ تازہ واقعہ وفاقی کسٹمز حکام اور سندھ حکومت کے درمیان گاڑیوں کے قانونی اسٹیٹس اور اختیار کے معاملے پر جاری پرانے اختلافات کی ایک اور مثال ہے۔
2025 میں بھی دونوں اداروں کے درمیان اس وقت کشیدگی پیدا ہوئی تھی جب سندھ ایکسائز ڈیپارٹمنٹ نے ایسی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی جن کے چیسس نمبر تبدیل شدہ تھے اور جنہیں پہلے کسٹمز حکام کی جانب سے کلیئر کیا گیا تھا۔ صوبائی حکام کا مؤقف تھا کہ ایسی گاڑیاں صوبائی رجسٹریشن قوانین کے تحت غیر قانونی ہیں، جبکہ کسٹمز کا کہنا تھا کہ انہیں وفاقی طریقہ کار کے تحت قانونی قرار دیا جا چکا ہے۔اس تنازع نے اس وقت مزید شدت اختیار کر لی جب صوبائی حکام نے ایسی گاڑیاں بھی تحویل میں لے لیں جو مبینہ طور پر خود کسٹمز حکام استعمال کر رہے تھے اور جن کے بارے میں نان ڈیوٹی پیڈ یا تبدیل شدہ چیسس نمبر کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا۔
اس سے قبل 2009 میں بھی سندھ حکومت اور پاکستان کسٹمز کے درمیان کراچی کے سینٹرل وہیکل پول میں موجود درجنوں گاڑیوں کی ملکیت کے معاملے پر اختلاف پیدا ہوا تھا۔ سندھ حکومت کا مؤقف تھا کہ یہ گاڑیاں صوبائی تحویل میں ہیں اور انہیں کسٹمز ایکٹ کے بجائے فوجداری قوانین کے تحت ضبط کیا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق ایسے تنازعات عموماً اختیارات کے باہمی ٹکراؤ کے باعث پیدا ہوتے ہیں، کیونکہ درآمدی ڈیوٹی اور کسٹمز قوانین کا نفاذ وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں ہے جبکہ گاڑیوں کی رجسٹریشن اور سڑکوں پر استعمال کے معاملات صوبائی اداروں کے تحت آتے ہیں۔ موجودہ تنازع اس دیرینہ ادارہ جاتی کشمکش کی ایک اور کڑی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں