کمیونٹی پولیسنگ کمانڈ اینڈ کنٹرول روم کا افتتاح

کراچی (ہینڈ آئوٹ) وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کراچی میں کمیونٹی پولیسنگ کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت کے طور پر کمیونٹی پولیسنگ کراچی (CPK) کے ایس ایس پی اے وی ایل سی کے آفس میں قائم کیئے گئے پہلے جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول روم کا افتتاح کیا۔
صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے اپنے خطاب میں سی پی کے کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کمیونٹی پولیسنگ کے فروغ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیونٹی کے ساتھ رابطے سے نہ صرف جرائم میں کمی آتی ہے بلکہ معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے۔
وزیر داخلہ نے اعلان کیا کہ سی پی کے اور سیف سٹی پروجیکٹ کے حکام کے درمیان ملاقات کرائی جائے گی تاکہ درپیش مسائل کا فوری حل نکالا جاسکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سی پی کے کے کیمروں کی مرمت کے اخراجات سفارشات کے مطابق سندھ حکومت برداشت کرے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ مراد سونی کی خدمات کے اعتراف میں انہیں حکومتی سطح پر میڈل دینے کی سفارش کی جائے گی۔
صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے شہر میں غیر قانونی اسلحہ، غیر مجاز وردیوں اور ٹنٹڈ گلاس کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ یہ عناصر جرائم کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں اور ان کا خاتمہ ناگزیر ہے۔انہوں نے شہریوں کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت اور پولیس شہر کو محفوظ بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہے ہیں،جبکہ اے وی ایل سی کو جدید خطوط پر اپڈیٹ کیا جا رہا ہے تاکہ گاڑیوں کی چوری اور چھیننے کے واقعات پر قابو پایا جا سکے۔علاوہ اذیں انہوں نے کہا کہ کمیونٹی پولیسنگ کراچی کا یہ اقدام عوامی اور نجی شعبے کے اشتراک سے شہری سیکیورٹی کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل بننےجا رہا ہے۔
قبل اذیں تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کے دوران وزیر داخلہ سندھ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ یہ جدید سہولت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت قائم کی گئی ہے،جو شہریوں اور پولیس کے باہمی تعاون کی ایک مؤثر مثال ہے۔جہاں جدید ترین ہائی ٹیک ANPR (آٹومیٹک نمبر پلیٹ ریکگنیشن) کیمروں سے لیس نظام نصب کیا گیا ہے۔اس جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شہر میں جرائم میں ملوث گاڑیوں کی شناخت محض 30 سیکنڈ کے اندر ممکن ہوسکے گی،جس سے جرائم کی روک تھام، مشتبہ گاڑیوں کی نگرانی اور فوری کارروائی میں نمایاں بہتری آئے گی۔بریفنگ کے مطابق یہ نظام کراچی میں اسمارٹ پولیسنگ کے فروغ،جرائم پیشہ عناصر کی بیخ کنی اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس اقدام سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافہ ہوگا اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شہر کو مزید محفوظ بنانے میں مدد ملے گی۔
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمیونٹی پولیسنگ ایک مؤثر ماڈل ہے، جس کے ذریعے جرائم میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایس ایچ او اپنے علاقے کے افراد کو جانتا تھا، تاہم اب جدید تقاضوں کے مطابق ٹیکنالوجی اور کمیونٹی شراکت داری کو فروغ دینا ضروری ہے۔
آئی جی سندھ نے بتایا کہ شہر کے 40 تھانوں میں کیمروں کی تنصیب کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس سے جرائم کی شرح میں واضح کمی متوقع ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جدید کیمروں کے استعمال سے کرائم ڈیٹیکشن میں 60 فیصد تک بہتری آئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کمیونٹی کیمروں کو سیف سٹی پروجیکٹ کے ساتھ مربوط کرنا ناگزیر ہے، بصورت دیگر اس کا مکمل فائدہ حاصل نہیں کیا جا سکے گا۔ اس سلسلے میں ہوم سیکریٹری سے مشاورت بھی کی گئی ہے، جبکہ کیمروں کی مرمت اور دیکھ بھال کے لیے خصوصی گرانٹ مختص کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سی پی کے کے چیف مراد سونی نے کہا کہ ہمیں اپنے ملک اور شہر کے لیے کام کرنا چاہیے اور اسی جذبے کے تحت سی پی کے کا قیام عمل میں لایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ سی پی کے چار سال قبل قائم ہوا اور آج شہر بھر میں اس کے 18 سینٹرز فعال ہیں، جو کمیونٹی پولیسنگ کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
مراد سونی کا کہنا تھا کہ کراچی کو صاف، محفوظ اور سرسبز بنانے کے وژن پر کام جاری ہے، جبکہ کمیونٹی پولیسنگ کے نظام کو پورے صوبے میں وسعت دی جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جدید دور میں پولیس اور عوام کے درمیان رابطہ ناگزیر ہے اور سی پی کے اسی خلا کو پُر کر رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں