کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی طویل عرصے سے خود کو ملک کی سب سے بڑی جمہوری اور عوامی جماعت کے طور پر پیش کرتی رہی ہے۔ پارٹی کی تاریخ آمریت مخالف جدوجہد، عوامی سیاست اور سیاسی کارکنوں کی قربانیوں سے جڑی ہوئی ہے۔ تاہم حالیہ دنوں میں پیش آنے والے دو واقعات نے ایک بار پھر اس سوال کو زندہ کردیا ہے کہ کیا پیپلز پارٹی کے اندر واقعی جمہوری کلچر موجود ہے؟
12 مئی کو سندھ اسمبلی کے اجلاس کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں پیپلز پارٹی سندھ کے صدر اپنی ہی جماعت سے تعلق رکھنے والے اسپیکر سید اویس قادر شاہ کے رویے پر احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کرتے دکھائی دیے۔ نثار کھوڑو، جو پارٹی کے سینئر ترین رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں، اسپیکر کی جانب سے بولنے کی اجازت نہ ملنے پر ناراض ہوئے۔ لیکن حیران کن طور پر اسپیکر نے نہ صرف انہیں منانے کی کوشش نہیں کی بلکہ جب نثار کھوڑو نے واک آؤٹ کا اعلان کیا تو جواب ملا: “جیسے آپ کی مرضی۔”
اس واقعے کے صرف دو دن بعد ایک اور ویڈیو وائرل ہوئی، اس میں پیپلز پارٹی کے چیئرپرسن بلاول بھٹو زرداری اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے، اس دوران جب ایک صحافی نے ایک وفاقی وزیر کے حوالے سے بینظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام کو صوبوںکے حوالے کرنے سے متعلق ان کی رائے پوچھی تو بلاول بھٹو متعلقہ وفاقی وزیر کے نام سے لاعلم دکھائی دیے۔ اس پر ان کے ساتھ موجود پارٹی کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات شازیہ عطا مری نے ان کی معاونت کرتے ہوئے مذکورہ وزیر کا نام بتایا، مگر بلاول بھٹو نے اس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: “میں نے آپ سے نہیں پوچھا۔”
اگرچہ شازیہ مری نے فوری معذرت کرلی، لیکن بلاول بھٹو کا بار بار “تھینک یو، تھینک یو” کہنا سوشل میڈیا صارفین کو تحقیر آمیز محسوس ہوا۔ ناقدین کے مطابق شازیہ مری بطور ترجمان اپنی ذمہ داری ادا کر رہی تھیں اور میڈیا گفتگو کے دوران پارٹی رہنماؤں کا ایک دوسرے کی معاونت کرنا ایک عام سیاسی روایت سمجھی جاتی ہے۔
یہ دونوں واقعات بظاہر الگ الگ ہیں، مگر ان میں ایک مشترک پہلو نمایاں نظر آتا ہے: پارٹی کے اندر طاقت اور اختیار کے سامنے سینئر رہنماؤں کی حیثیت۔ سیاسی مبصرین کے مطابق کسی بھی جمہوری جماعت کی اصل پہچان صرف انتخابات یا نعروں سے نہیں بلکہ اس کے اندر موجود برداشت، مشاورت اور باہمی احترام کے کلچر سے ہوتی ہے۔
گزشتہ کچھ برسوں سے پیپلز پارٹی کے ناقدین پارٹی کو “وڈیروں کی جماعت” قرار دیتے رہے ہیں۔ اس اصطلاح سے صرف جاگیردار طبقے کی موجودگی مراد نہیں بلکہ ایک ایسا سیاسی رویہ بھی مراد لیا جاتا ہے جس میں اختیار رکھنے والے افراد اپنے ماتحت یا کمزور حیثیت رکھنے والوں سے برتر انداز میں پیش آتے ہیں۔
ڈیجیٹل دور میں سیاست صرف پالیسیوں تک محدود نہیں رہی۔ آج عوام رہنماؤں کے لب و لہجے، رویے اور ساتھیوں کے ساتھ برتاؤ کو بھی قیادت کا اہم پیمانہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چند سیکنڈ کی ویڈیوز بھی جماعتوں کے اندرونی کلچر پر بڑے سوالات کھڑے کر دیتی ہیں۔
(رپورٹ: ابن صالح)
کیا پیپلز پارٹی واقعی ایک جمہوری جماعت ہے؟



