سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کو سیاسی دھچکہ کیسے پہنچا؟

کراچی (رپورٹر) اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ کی ناتجربہ کاری اور پیپلز پارٹی کے رہنمائوں کے باہمی اختلافات کی وجہ سے منگل کو صوبائی اسمبلی میں 12 مئی 2007 کو شہید ہونے والے سیاسی کارکنوں کو خراج تحسین پیش کرنے کی قراراد مسترد ہوگئی۔ مذکورہ قراراداد تحریک انصاف کے حمایت کے شبیر قریشی نے پیش کی، جبکہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے اراکین نے قراراد کی مخالفت کی۔ واضح رہے کہ 12 مئی 2007 کو کراچی میں مختلف سیاسی جماعتوں کے کم از کم 50 کارکنان شہید ہوئے تھے جن میں پیپلز پارٹی کے 15 کارکن بھی شامل تھے۔
مذکورہ قرارداد منگل کے ایجنڈے کا حصہ نہیں تھی لیکن اسپیکر سید اویس قادر شاہ نے تحریک انصاف کے رکن کو یہ قرارداد آئوٹ اآف ٹرن پیش کرنے کی اجازت دی۔ جس کے بعد شبیر قریشی نے اپنی قرارداد کے حق میں تقریر بھی کی، جبکہ اسپیکر نے ایم کیو ایم کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈرطاحہ احمد کو بھی اس پر بات کرنے کی اجازت دی،۔اس کے فوری بعد اسپیکر نے قراراد کو ووٹنگ کے لیے ایوان میں پیش کیا جو ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے اراکین کی مخالفت کی وجہ سے مسترد ہوگئی۔
قراراداد پر ووٹنگ کے بعد پیپلز پارٹی کے نثار احمد کھوڑو کھڑے ہوئے اور اسپیکر کو مخاطب ہوکر کہا کہ وہ اس پر بات کرنا چاہتے تھے اور اپنا نام بھی آپ کو بھیجا لیکن آپ نے میری طرف توجہ نہیں دی اور آپ نے قرارداد ایوان میں پیش کردی، “یہ بات اسمبلی کی ہے، میری ذاتی نہیں ہے”۔ نثار کھوڑو نے طاحہ قریشی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہوئے کہا کہ وہ آئوٹ آف آرڈر بول رہے تھے۔ اس پر اسپیکر نے کہا کہ نہیں، وہ اس قرارداد پر بات کر رہے تھے۔ اسپیکر کے ساتھ اس تکرار کے بعد نثار کھوڑو نے کہا “آئی واک آئوٹ” (میں باہر جا رہا ہوں)۔ اس پر اسپیکر نے جواب دیا کہ “اٹ ز اپ ٹو یو” (جیسے آپ کی مرضی)۔ اور نثار کھوڑو احتجاج کے طور پر ایوان سے باہر نکل گئے۔ اس دوران ایم کیو ایم کے اراکین نے ڈیسک بجا کر اسپیکر کو داد پیش کی۔
نثار کھوڑو کے جانے کے بعد وزیر قانون ضیا لنجار اپنی نشست پر کھڑے ہوئے اور طاحہ احمد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسپیکر کو درخواست کی کہ ان کی کہی ہوئی بات کو کارروائی سے حذف کردیا جائے۔ اسپیکر اویس قادر شاہ نے ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے ضیا لنجار کو کہا کہ چلیں میں حذف کرتا ہوں لیکن “دس ول ناٹ بھی ایٹ ادھر ٹائم” (یہ آئندہ نہیں ہوگا)۔
اس کے بعد جب اسپیکر اویس قادر شاہ نے قرارداد پیش ہونے سے متعلق وضاحت پیش کرنا شروع کی تو ضیا لنجار نے سخت لہجے میں انہیں کہا کہ ‘اسپیکر صاحب، آپ نے قراراداد ایوان میں پیش کردی، اب مہربانی کرکے اس (معاملے) کو ‘وائنڈ اپ’ (ختم) کریں۔ اس پر اسپیکر نے اجلاس ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔
اجلاس ملتوی ہونے کے بعد اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک صحافی نے کہا کہ ویسے تو اسپیکر اویس قادر شاہ ہر قرارداد پر حکومت کی رائے لیتے رہے لیکن معلوم نہیں کیوں اس قرارداد پر حکومتی رائے لیے بغیر اسے ووٹنگ کے لیے ایوان میں پیش کردیا جس کے باعث ان کی اپنی ہی جماعت کو شدید سیاسی دھچکہ پہنچا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں