کراچی (نیوز ڈیسک) سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے اپنے تازہ کالم میں لکھا ہے کہ عمران کی عین یعنی آنکھ کا معاملہ حد سے بڑھا تو بیماری نے سیاست میں آگ لگا دی۔ نون کی حکمت عملی اس معاملے کو ٹھنڈا کرنے اور نیچے نیچے رکھنے کی رہی۔ عطا اللہ تارڑ، رانا ثنا اللہ اور وفاقی وزیروں نے اپنے بیانات کے ذریعے اس معاملے کو ڈیل کیا وزیراعظم شہباز شریف پر اسرار طور پر خاموش رہے اور انکے بڑے بھائی نواز شریف تو اس دنیا سے پرے اپنی ہی دنیا میں رہتے ہیں اسلئے کوئی ان تک رسائی حاصل کرتا تو ہی انکا موقف لے سکتا سو ادھر سے بھی چپ کا تاثر رہا۔ ایسے میں صدر آصف زرداری کھل کر سامنے آئے عمران کی بیماری اور اپنی جیلوں کا تقابل کر کے تحریک انصاف کے بیانیے کا جواب دیا اور انصافی پروپیگنڈے کی توپوں کا رخ جان بوجھ کر نون سے ہٹا کر اپنی طرف کر لیا۔
سوال یہ ہے کہ زرداری نے ایسا کیوں کیا اس چال یا رمز کے اندر کیا چھپا ہے اور اسکے نتائج کیا نکلیں گے؟ آصف علی زرداری نے شاید بھانپ لیا ہوگا کہ نون کی اعلیٰ ترین قیادت خود کو اس قضیے سے دور رکھ کر وہی سیاسی غلطی کر رہی ہے جو وہ عمران کے بیانیےکے جواب میں سیاست کی بجائے گورننس پر توجہ کر کے کر رہی ہے جس سے عمرانی بیانیے کا بوجھ غیر سیاسی مقتدرہ پر پڑ رہا ہے اور انکے اس بوجھ کو نون کو جس موثر طریقے سے بانٹنا چاہئے اس میں واضح کمی اور خلا ہے۔ صدر پاکستان نے یہ زوردار بیان دیکر اشارہ دیا ہے کہ ہم آپ کیساتھ مخالفت کا بوجھ اٹھانے اور اپنا کندھا پیش کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔
آصف زرداری کھل کر سامنے کیوں آئے؟



