کراچی کے لیے 10 ارب کے ترقیاتی منصوبے: ریلیف یا عارضی حل؟

کراچی (رپورٹر) کراچی میں بڑھتے ہوئے ٹریفک دباؤ، ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑکوں اور ناقص شہری انفراسٹرکچر کے مسائل کے درمیان حکومتِ سندھ نے 10 ارب روپے سے زائد مالیت کے 10 بڑے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں فلائی اوورز، متبادل کوریڈورز، سڑکوں کی بحالی اور نکاسی آب کے منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، جنہیں کراچی میں ٹریفک روانی اور شہری رابطوں کی بہتری کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ان منصوبوں میں نارتھ کراچی پاور ہاؤس چورنگی فلائی اوور، فور کے چورنگی فلائی اوور، کلفٹن کی ساحلی سڑکوں کی بحالی، ملیر سے لانڈھی متبادل کوریڈور، کورنگی کی اہم سڑکوں کی تعمیر نو، اورنگی و بلدیہ ٹاؤن کے درمیان رابطہ سڑک، اور شاہراہ فیصل کی بحالی جیسے منصوبے شامل ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات سے سفر کا وقت کم ہوگا، صنعتی و تجارتی علاقوں تک رسائی بہتر ہوگی اور شہری معیشت کو سہارا ملے گا۔
تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ منصوبے کراچی جیسے میگا سٹی کے دیرینہ مسائل حل کرنے کے لیے کافی ہیں؟
بنیادی مسئلہ صرف سڑکیں نہیں. کراچی کا انفراسٹرکچر بحران صرف چند چورنگیوں یا ٹریفک جام تک محدود نہیں۔ شہر کی آبادی دو کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ شہری سہولیات، پبلک ٹرانسپورٹ، سیوریج اور روڈ نیٹ ورک کئی دہائیوں سے دباؤ کا شکار ہیں۔ ماہرین کے مطابق فلائی اوورز اور سڑکوں کی توسیع وقتی ریلیف تو دے سکتی ہے، مگر یہ مستقل حل نہیں۔
دنیا کے بڑے شہروں میں ٹریفک کے مسائل صرف مزید سڑکیں بنا کر حل نہیں کیے گئے بلکہ جدید ماس ٹرانزٹ سسٹمز، مربوط شہری منصوبہ بندی اور نجی گاڑیوں پر انحصار کم کرنے کی پالیسیوں کے ذریعے دباؤ کم کیا گیا۔ کراچی میں اب بھی شہریوں کی بڑی تعداد غیر منظم پبلک ٹرانسپورٹ یا موٹر سائیکلوں پر انحصار کرتی ہے، جبکہ روزانہ لاکھوں افراد طویل سفری اوقات برداشت کرتے ہیں۔
فلائی اوورز کتنے مؤثر ہوں گے؟
پاور ہاؤس اور فور کے چورنگی جیسے منصوبے یقیناً ان علاقوں میں ٹریفک کے شدید دباؤ کو کم کرسکتے ہیں، خاص طور پر ضلع وسطی اور سرجانی ٹاؤن کی سمت جانے والی ٹریفک کے لیے۔ اسی طرح صنعتی علاقوں اور بندرگاہ سے جڑی سڑکوں کی بہتری سے کاروباری سرگرمیوں کو سہولت ملنے کی توقع ہے۔لیکن شہری منصوبہ بندی کے ماہرین اکثر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صرف فلائی اوورز اور روڈ ایکسپینشن سے “induced demand” پیدا ہوتی ہے، یعنی نئی سڑکیں وقتی طور پر ٹریفک کم کرتی ہیں مگر چند برس بعد گاڑیوں کی بڑھتی تعداد دوبارہ وہی دباؤ پیدا کر دیتی ہے۔
نکاسی آب: اصل امتحان
اجلاس میں کئی منصوبوں کے ساتھ ڈرینج اور سیوریج کی بہتری پر بھی زور دیا گیا، جو کراچی کے تناظر میں انتہائی اہم ہے۔ شہر میں مون سون بارشوں کے بعد سڑکوں کا تباہ ہونا، پانی جمع ہونا اور ٹریفک کا مفلوج ہوجانا معمول بن چکا ہے۔ اگر حکومت واقعی سڑکوں کے ساتھ زیرِ زمین نکاسی آب کے نظام کو بھی اپ گریڈ کرتی ہے تو یہ منصوبے نسبتاً دیرپا نتائج دے سکتے ہیں۔ بصورت دیگر نئی تعمیر شدہ سڑکیں بھی چند موسموں بعد دوبارہ خراب ہونے کا خطرہ رکھتی ہیں۔
اصل چیلنج عملدرآمد ہے.
کراچی کے شہری انفراسٹرکچر کی تاریخ ایسے منصوبوں سے بھری پڑی ہے جو تاخیر کا شکار ہوئے، لاگت میں اضافے کا باعث بنے، یا ناقص تعمیرات کی وجہ سے جلد خراب ہوگئے۔اسی لیے اس بار اصل توجہ صرف اعلانات پر نہیں بلکہ بروقت تکمیل، شفاف نگرانی، بین الادارہ جاتی تعاون، اور بعد از تعمیر مینٹیننس پر ہوگی۔
یہ منصوبے کراچی کے کچھ اہم “bottlenecks” کو کم کرنے اور شہریوں کو محدود ریلیف دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ خاص طور پر ضلع وسطی، کورنگی، ملیر، بلدیہ اور اورنگی کے رہائشیوں کو روزمرہ سفر میں بہتری محسوس ہوسکتی ہے۔ تاہم کراچی جیسے شہر کے لیے صرف سڑکوں کی تعمیر کافی نہیں۔ اگر حکومت واقعی طویل المدتی تبدیلی چاہتی ہے تو اسے ماس ٹرانزٹ نیٹ ورک، سرکلر ریلوے، واٹر و سیوریج اصلاحات، لینڈ یوز پلاننگ اور مضبوط بلدیاتی نظام پر بھی اسی پیمانے پر سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں