کیاخواتین کی مختص بسیں بھی محفوظ نہیں؟

کراچی میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ، جس میں طالبات کو مسلح افراد نے لوٹا، محض ایک عام واردات نہیں بلکہ شہریوں، خصوصاً طالب علموں اور خواتین کی سیکیورٹی پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ یہ واقعہ بہادرآباد کے علاقے میں نیو ٹاؤن تھانے کی حدود میں پیش آیا، جہاں میڈیکل کالج کی طالبات اپنی پوائنٹ بس میں سفر کر رہی تھیں۔ یہ وہ لمحہ تھا جو معمول کے سفر سے اچانک خوف اور عدم تحفظ کے تجربے میں بدل گیا۔
یہ طالبات جناح میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج سے تعلق رکھتی تھیں اور ایک گروپ کی صورت میں سفر کر رہی تھیں، جو بظاہر ایک محفوظ طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن جس بے خوفی کے ساتھ ملزمان نے ایک مصروف علاقے میں گاڑی کو روکا اور واردات کی، وہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کو قانون کا کوئی خوف نہیں رہا۔
اگر پولیس کا یہ مؤقف مان بھی لیا جائے کہ صرف دو موبائل فون اور ایک مصنوعی بریسلٹ چھینا گیا تب بھی اس واقعہ کی سنگینی کم نہیں ہوسکتی کیونکہ کسی بھی جرم کی شدت صرف چھینی گئی اشیاء کی مالیت سے نہیں ناپی جاتی، بلکہ اس کے نفسیاتی اثرات—خوف، صدمہ اور عدم تحفظ کا احساس—زیادہ اہم ہوتے ہیں۔جن بچیوں کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا انہیں‌اس خوف سے نکلنے میں‌کتنا عرصہ لگے گا؟
یہ واقعہ کیوں اہم ہے؟ اس لیے کہ شہر کے تعلیمی اداروں‌میں‌پڑھنے والے طلبہ خاص طور پر طالبات اپنے اداروں کی پوائنٹ بسوں‌میں خود کو محفوظ تصور کرتے ہیں‌، اب یہ وہ اپنی بسوں‌میں بھی خود کو محفوظ سمجھیں‌گے، تو کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ کل کو کالجوں اور یونیورسٹیوں‌کے اندر بھی وہ محفوظ نہیں‌رہیں گے؟ اور کیا خواتین اب خود کو حکومت سندھ کی جانب سے ان کے لیے خصوصی طور پر چلائی جانے والی پنک بسوں میں‌بھی خود کو محفوظ نہ سمجھیں؟
زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ واقعہ دن دیہاڑے بہادرآباد جیسے مصروف علاقے میں ہوا ہے، اس نوعیت کی واردات اس بات کی علامت ہے کہ ایسے علاقوں میں‌بھی مؤثر پولیسنگ کی کمی ہے۔اگر ایسے واقعات کو معمول سمجھ کر نظرانداز کیا گیا تو جرائم پیشہ عناصر کے حوصلے مزید بلند ہوں گے۔ اس کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات ضروری ہیں:
1. حساس علاقوں میں پولیس کی موجودگی بڑھائی جائے
بہادرآباد جیسے علاقوں میں گشت بڑھا کر جرائم کی روک تھام کی جا سکتی ہے۔
2. نگرانی کے نظام کو مضبوط بنایا جائے
سی سی ٹی وی کیمروں کی تعداد اور ان کی مؤثر نگرانی سے ملزمان کی شناخت اور گرفتاری آسان ہو سکتی ہے۔
3. موٹر سائیکل سے ہونے والے جرائم پر قابو پایا جائے
زیادہ تر اسٹریٹ کرائمز میں موٹر سائیکل استعمال ہوتی ہے، اس لیے سخت چیکنگ اور رجسٹریشن کی تصدیق ضروری ہے۔
4. تعلیمی اداروں کی ٹرانسپورٹ کو محفوظ بنایا جائے
طلبہ کی گاڑیوں میں جی پی ایس ٹریکنگ اور ایمرجنسی سسٹم متعارف کروائے جائیں۔
کراچی میں اسٹریٹ کرائم کوئی نئی بات نہیں، لیکن ایسے واقعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ صورتحال اب بھی قابو میں نہیں آئی۔ جب طالبات کا ایک گروپ بھی محفوظ نہ ہو، تو یہ پورے سیکیورٹی نظام پر سوال اٹھاتا ہے۔اصل سوال یہ نہیں کہ کیا چھینا گیا، بلکہ یہ ہے کہ شہری کب تک خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے رہیں گے۔ اس کا جواب صرف بیانات میں نہیں بلکہ عملی اقدامات میں پوشیدہ ہے۔
(تحریر: ابن صالح)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں