خواتین محنت کشوں کے حقوق کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ

کراچی (پریس رلیز) 8 مارچ کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن (پائلر) کے زیرِ اہتمام ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں خواتین محنت کشوں کے حقوق، کام کی جگہوں پر مساوات اور محفوظ ماحول کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پائلر کے ڈائریکٹر عباس حیدر نے کہا کہ خواتین کو یکساں اجرت، ملازمت کا تحفظ اور ہراسانی سے پاک کام کا ماحول فراہم کرنا ریاست، اداروں اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کا عالمی دن ان کی تاریخی جدوجہد، قربانیوں اور معاشرتی ترقی میں کردار کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا دن ہے، ساتھ ہی یہ اس عزم کی تجدید کا موقع بھی ہے کہ خواتین کو زندگی کے ہر شعبے میں برابری، تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں لاکھوں خواتین صنعتوں، فیکٹریوں، کھیتوں، گھروں اور دفاتر سمیت مختلف شعبوں میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ تاہم اس کے باوجود انہیں اکثر کم اجرت، ملازمت کے عدم تحفظ، ہراسانی، امتیازی سلوک اور ترقی کے محدود مواقع جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک ہی نوعیت کا کام کرنے کے باوجود خواتین کو مردوں کے مقابلے میں کم اجرت ملنا نہ صرف ناانصافی بلکہ بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
اس موقع پر انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کی کونسل رکن سعدیہ بلوچ نے کہا کہ خواتین کو کام کی جگہوں پر باعزت اور محفوظ ماحول فراہم کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اگرچہ پاکستان میں ہراسانی سے تحفظ کے قوانین موجود ہیں، تاہم ان پر مؤثر عملدرآمد اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
مزدور رہنما شمیم علی نے کہا کہ خواتین محنت کشوں کو سوشل سیکیورٹی، زچگی کی چھٹی، طبی سہولیات، بچوں کے لیے ڈے کیئر مراکز اور پنشن جیسی بنیادی سہولیات اکثر میسر نہیں ہوتیں، جس کے باعث ان کے لیے پیشہ ورانہ اور گھریلو ذمہ داریوں میں توازن قائم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں