کراچی (رپورٹ: پریت تانیہ)”دریاؤں کا تحفظ، انسانوں کا تحفظ” کے عنوان سے ابراہیم حیدری میں ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ یہ ریلی ابراہیم حیدری کے مختلف علاقوں سے گزرتی ہوئی مل جیٹی پر اختتام پذیر ہوئی۔
ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان فشر فوک فورم کے مرکزی جنرل سیکریٹری سعید بلوچ نے کہا کہ انڈس ڈیلٹا تقریباً تباہ ہوچکا ہے، جبکہ ناعاقبت اندیش حکمران دریائے سندھ سے چھ نہریں نکالنے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ پانی زندگی ہے اور اس دھرتی پر پانی کے بغیر کوئی جاندار اپنی بقا برقرار نہیں رکھ سکتا۔ دنیا کی بڑی تہذیبیں بھی دریاؤں اور آبی ذخائر کے باعث ہی وجود میں آئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بڑھتی ہوئی انسانی آبادی کے باعث مستقبل میں پانی کی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں جو آئندہ برسوں میں پانی کی قلت کا سبب بنیں گے۔ ڈیلٹا میں کئی برسوں سے پانی نہ چھوڑنے کے باعث سمندر آگے بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ سے سندھ اپنی 42 لاکھ ایکڑ زمین سے محروم ہوچکا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پوری دنیا میں میٹھے پانی کا حصہ صرف ایک فیصد ہے، جو انسانی ضروریات کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دریائے سندھ پر بننے والی نہروں کی شدید مخالفت جاری رکھی جائے گی۔
پاکستان فشر فوک فورم کی سینئر وائس چیئرپرسن فاطمہ مجید نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ قومیں اور تہذیبیں جو اپنے قدرتی وسائل، پانی اور دریاؤں کی حفاظت نہ کرسکیں، تاریخ سے مٹ گئیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکمران دریائے سندھ سے نئی نہریں نکالنے میں کامیاب ہوگئے تو سندھ کی زمین بنجر ہوجائے گی اور آہستہ آہستہ یہاں کے لوگوں کا وجود بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کا ہر فرد چولستان کینال سمیت دریائے سندھ پر کسی بھی قسم کی نئی نہر یا ڈیم کی تعمیر کی مخالفت جاری رکھے گا۔
فشر فوک فورم کے مرکزی انفارمیشن سیکریٹری ایوب شان نے کہا کہ پانی بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہے، کیونکہ پانی ہی زندگی ہے اور زندگی کے خاتمے کا مطلب انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ فشر فوک کراچی کے سیکریٹری طالب کچھی نے کہا کہ اگر دریائے سندھ پر مزید نہریں بنائی گئیں تو سندھ کی زمین اور زراعت تباہ ہوجائے گی اور سندھ کے سات کروڑ لوگ پانی کی شدید قلت کا شکار ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے بیشتر لوگ اپنی زندگی اور روزگار کے لیے دریائے سندھ کے پانی پر انحصار کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ڈیلٹا پہلے ہی تباہی کا شکار ہے، جہاں لوگوں کی زمینیں، زراعت اور مویشی متاثر ہوچکے ہیں، جبکہ دریا کا پانی ڈیلٹا تک نہ پہنچنے کی وجہ سے 42 لاکھ ایکڑ زمین سمندر برد ہوچکی ہے۔ ان کے مطابق ڈیموں اور نہروں کی تعمیر نے خوشحالی کے بجائے تباہی کو جنم دیا ہے۔
کراچی ڈویژن کے صدر مجید موٹانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیات اور انسانی حقوق کے تناظر میں پانی کے مسئلے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے قومی، علاقائی اور مقامی سطح پر پانی کے تحفظ اور دریاؤں کو آزاد کرانے کے لیے ایک مضبوط تحریک شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔



