“غنویٰ‌ بھٹو نے مجھے گالی نکالی اور …”

کراچی (نیوز ڈیسک) معروف صحافی سہیل وڑائچ نے اپنے تازہ مضمون میں میر مرتضیٰ‌بھٹو کی بیٹی فاطمہ بھٹو کی نئی کتاب The Hour of the Wolf کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ اس کتاب میں فاطمہ بھٹو نے پہلی مرتبہ اپنی سوتیلی ماں غنویٰ بھٹو کے بارے میں بھی زبان کھولی ہے .”انہوں نے لکھا ہے کہ انکی طبیعت میں دوسروں کو کنٹرول کرنے کی عادت ہے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے صفحہ نمبر 41 پر انہوں نے لکھا کہ میں نے اپنی سوتیلی ماں غنویٰ بھٹو سے یہ سوال اٹھایا کہ میں اپنی دولت کو کیا خود سنبھال نہیں سکتی اور کیا میں اپنا حساب کتاب خود چیک نہیں کرسکتی؟ اس پر غنویٰ بھٹو نے مجھے گالی نکالی اور دروازہ بند کرکے باہر نکل گئیں جانے سے پہلے مجھے غصے بھرے لہجے میں کہا’’ میں نے تمہارے والد کی موت کے بعد تمہاری جان بچائی اور اسکا شکریہ تم میرے سے حساب کتاب کرکے کررہی ہو‘‘ اسکے بعد غنویٰ بھٹو نے گھر چھوڑنے کی دھمکی دی اور زور سے دروازہ بند کیا۔ فاطمہ بھٹو کے بقول وہ تشدد اور قریبی لوگوں سے محرومی کے احساسات سے مغلوب ہوکر فوراً اپنی سوتیلی ماں کے سامنے سرنڈر کرگئیں اور کہا کہ آئندہ میں حساب کتاب نہیں دیکھوں گی۔
فاطمہ بھٹو لکھتی ہیں کہ سوئے ہوئے کتوں کو سویا رہنے دیں (پرانے قصوں کو نہ چھیڑیں) اپنی سوتیلی ماں کی طبیعت اور بے نام رومانس کے’’ مرد‘‘ کی شخصیت کا تقابل کرتے ہوئے لکھتی ہیں صفحہ نمبر 44 پر’’ المیہ یہ ہے کہ اپنی کنٹرولنگ اور سانس بند کردینے والی ماں سے بچ کر میں ایک اور ظالمانہ تعلق میں پھنس گئی میں بالغ تھی اور میرے پاس کئی مواقع تھے اصل میں مجھے محبت کے بارے میں آگاہی اور شعور نہ تھا۔ اس کی وجہ میری اپنی غلطیاں اور ناکامیاں تھیں‘‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں