کراچی (رپورٹر) سندھ اسمبلی نے صوبے میں شراب کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی لگانے کی تجویز پر مبنی قرارداد کو منظور کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ قرارداد ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی انیل کمار نے پیش کی تھی، تاہم صوبائی وزیر قانون ضیا الحسن لنجار کی مخالفت کے بعد ایوان نے اسے کثرت رائے سے مسترد کر دیا.
انیل کمار نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ شراب مسلمانوں کے لیے مذہبی طور پر حرام ہے جبکہ دنیا کے متعدد ممالک میں بھی سماجی اور قانونی وجوہات کی بنیاد پر اس پر پابندیاں عائد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر مسلموں اور غیر ملکیوں کے نام پر شراب کے لائسنس جاری کرنے کی موجودہ پالیسی مساوات کے اصول سے مطابقت نہیں رکھتی اور معاشرتی خرابیوں کو جنم دیتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت سندھ تمام جاری شدہ لائسنس ختم کرے اور شراب کی تجارت پر مکمل پابندی نافذ کرے۔
وزیر قانون ضیا الحسن لنجار نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی پابندی سے مختلف انتظامی اور عملی مسائل پیدا ہوں گے۔ حکومتی مؤقف سامنے آنے کے بعد قرارداد کو ایوان کی تائید حاصل نہ ہو سکی۔
پاکستان میں شراب کی فروخت کا معاملہ طویل عرصے سے حساس اور متنازع رہا ہے اور اس کے خلاف مختلف ادوار میں قانون سازی کی کوششیں بھی کی جاتی رہی ہیں۔ ماضی میں قومی اسمبلی میں بھی ایسی قراردادیں پیش ہو چکی ہیں، لیکن کوئی بھی حتمی منظوری حاصل نہیں کر سکی۔ سنہ 2016 میں پاکستان ہندو کونسل کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی رمیش کمار وانکوانی نے اسی نوعیت کی قرارداد پیش کی تھی، جو ناکام رہی۔ اس سے قبل 2014 میں اسلامی نظریاتی کونسل کے اُس وقت کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے بھی ایک غیر مسلم رکن اسمبلی کے ساتھ مل کر ایسی کوشش کی، مگر وہ بھی کامیاب نہ ہو سکی۔
بعد ازاں 2019 میں پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی مولانا اکبر چترالی اور مسیحی رکن اسمبلی شنیلا رتھ نے مشترکہ طور پر شراب کی فروخت پر پابندی کی کوشش کی لیکن وہ بھی کامیاب نہیں ہوسکے۔
محکمہ ایکسائز اور عدالتی ریکارڈ کے مطابق سندھ میں گزشتہ برسوں کے دوران تقریباً 120 سے 130 شراب فروخت کے لائسنس جاری کیے گئے، جن کی بڑی تعداد کراچی میں ہے۔ یہ کاروبار باقاعدہ ضوابط کے تحت چلایا جاتا ہے، تاہم اس کے قانونی، سماجی اور اقلیتی حقوق سے متعلق پہلو مسلسل بحث کا موضوع رہے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق شراب سے متعلق ڈیوٹی اور لائسنس فیس کی مد میں اربوں روپے کی آمدن حاصل ہوتی ہے۔
شراب پر پابندی کی کوشش سندھ اسمبلی میں بھی ناکام



