کراچی(رپورٹر) آڈیٹر جنرل پاکستان نے سندھ کے پبلک سیکٹر اداروں سے متعلق تازہ آڈٹ رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں مالی نظم و ضبط، اندرونی کنٹرول سسٹم اور انتظامی امور میں متعدد سنگین کمزوریوں اور بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ مذکورہ اداروں میںپی پی ایچ آئی، سندھ سیڈ کارپوریشن، سندھ امپلائیز سوشل سیکیورٹیز انسٹی ٹیوشن اور دیگر ادارے شامل ہیں.
سال 2022-23 کے آڈٹ کے دوران خریداری کے تین کیسز میں ایک ارب 18 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں سامنے آئیں، جبکہ تین کیسز میں غیر قانونی تقرریوں میں 26 کروڑ 70 لاکھ روپے سے زیادہ مالیت کی بے قاعدگی کی نشاندہی کی گئی۔ اسی طرح واجبات کی عدم وصولی کے چار کیسز میں تقریباً 4 ارب 65 کروڑ روپے کی رقم بقایا پائی گئی۔
آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 8 پبلک سیکٹر اداروں نے سالانہ آڈٹ شدہ اکاؤنٹس جمع نہیں کروائے، جو اندرونی کنٹرول کے نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ مزید یہ بھی انکشاف ہوا کہ کئی اداروں نے اخراجات اور وصولیوں کی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کیں، جس سے مالی شفافیت متاثر ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق آڈٹ مشاہدات اور سفارشات پر عمل سے آمدن میں بہتری، اخراجات کے بہتر استعمال، قواعد کی پابندی اور بعض کیسز میں ریکوری ممکن ہوئی۔ تاہم کہا گیا ہے کہ اگر ڈی اے سی اور پی اے سی کے اجلاس باقاعدگی سے ہوں تو آڈٹ کے اثرات مزید مؤثر ہو سکتے ہیں۔
آڈٹ حکام نے سفارش کی ہے کہ تمام تقرریاں شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر کی جائیں، خریداری حکومتی قواعد کے مطابق ہو، سرکاری واجبات کی بروقت وصولی یقینی بنائی جائے اور سالانہ آڈٹ شدہ اکاؤنٹس وقت پر جمع کرائے جائیں۔ رپورٹ میں پبلک سیکٹر اداروں میں شفافیت اور احتساب کے نظام کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے.
سیسی اور دیگر اداروں میں انتظامی اور مالی بے ضابطگیاں



